عاشق زار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عاشق تباہ حال، عشق میں خستہ حال۔ "وہ ہندوستان کے ماضی کے عاشق زار بھی تھے اور قصیدہ خواں بھی۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٣٥٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عاشق' کے ساتھ فارسی اسم صفت 'زار' لگانے سے مرکب 'عاشق زار' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩١٧ء کو "سنجوگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عاشق تباہ حال، عشق میں خستہ حال۔ "وہ ہندوستان کے ماضی کے عاشق زار بھی تھے اور قصیدہ خواں بھی۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٣٥٠ )

جنس: مذکر